صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں نیشنل پارٹی بھر پور شرکت کرے گی۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سینکڑوں کی تعداد میں نیشنل پارٹی کے امیدواروں کی بلامقابلہ منتخب ہو نا اس بات کی دلیل ہیں کہ نیشنل پارٹی غریب عوام کی جماعت ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا ، انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی عوام کو بااختیار دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی روح کی مانند ہے جس نظام نے ہمیشہ عوام کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کیا ہے ،یہ نظام عوام کی فلاح و بہبود کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، جس سے عوام کے کافی مسائل حل ہو جاتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پارٹی کے فیصلے کے مطابق ہم بلدیاتی الیکشن میں بھر پور حصہ لے رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پنجگور میں 6ڈسٹرکٹ ممبر اور متعد د وارڈ ز ممبر کا بلا مقابلہ منتخب ہونا ہماری پارٹی کی کامیابی ہے ،انہوں نے عوام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ نیشنل پارٹی کے امیدواروں کو انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی دلائیں تاکہ ہم عوام کے مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکیں۔
4:45 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ چوتھی پبلک ہیلتھ کانفرنس 2013کے شرکاء میں شیلڈ تقسیم کرتے ھوئے
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ چوتھی پبلک ہیلتھ کانفرنس 2013کے شرکاء میں شیلڈ تقسیم کرتے ھوئے
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ چوتھی پبلک ہیلتھ کانفرنس 2013کے شرکاء میں شیلڈ تقسیم کرتے ھوئے
4:34 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ اب محکمہ صحت میں کرپشن ،ڈمی اور کاغذی منصوبوں کے
لیے کوئی گنجائش نہیں ہے ، جو فنڈ جس کام کے لیے ہو گا اسی پر خرچ کیا جائے گا ، ایسا کرکے ہم صوبے کی عوام پر احسان نہیں بلکہ انکے حق کی ادائیگی اور بلوچستان سے وابستگی کا حق ادا کررہے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد چوتھی پبلک ہیلتھ کانفرنس 2013سے خطاب کے دوران کیا ، انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پرخوشی محسوس نہیں کرتے ہیں کہ وہ بحیثیت وزیر یہاں موجود ہیں بلکہ اس سے زیادہ خوشی اور فخر اس بات پر ہے کہ آج صوبے بھر کی عوام کی حقیقی نمائندگی کر رہا ہوں ، آج لوگ یہا ں اسلام آباد میں صوبے کے مسائل پر بات کر رہا ہوں تو یہ دراصل ژوب سے گوادر تک بلوچستان کی عوام کی آوازہے ، انہوں نے کہا کہ چونکہ آج بچوں کے صحت کے حوالے سے بات ہورہی ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ یہاں بلوچستان کے بچوں کی صحت کے حوالے سے بات نہ کی جائے ، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بچے صحت کے حوالے گوناگوں مسائل کا شکار ہیں ، جس کی بنیادی وجہ وسیع رقبہ اور ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز کرنا ہے ، جس نے ہمیں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے ، ہمارے صوبے کو بھی دیگر صوبوں صحت کو حوالے سے دی جانے والے سہولیات دی جائیں تاکہ ہمارے صحت کے حوالے سے ہماری مشکلات میں کمی واقع ہو۔
لیے کوئی گنجائش نہیں ہے ، جو فنڈ جس کام کے لیے ہو گا اسی پر خرچ کیا جائے گا ، ایسا کرکے ہم صوبے کی عوام پر احسان نہیں بلکہ انکے حق کی ادائیگی اور بلوچستان سے وابستگی کا حق ادا کررہے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد چوتھی پبلک ہیلتھ کانفرنس 2013سے خطاب کے دوران کیا ، انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پرخوشی محسوس نہیں کرتے ہیں کہ وہ بحیثیت وزیر یہاں موجود ہیں بلکہ اس سے زیادہ خوشی اور فخر اس بات پر ہے کہ آج صوبے بھر کی عوام کی حقیقی نمائندگی کر رہا ہوں ، آج لوگ یہا ں اسلام آباد میں صوبے کے مسائل پر بات کر رہا ہوں تو یہ دراصل ژوب سے گوادر تک بلوچستان کی عوام کی آوازہے ، انہوں نے کہا کہ چونکہ آج بچوں کے صحت کے حوالے سے بات ہورہی ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ یہاں بلوچستان کے بچوں کی صحت کے حوالے سے بات نہ کی جائے ، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بچے صحت کے حوالے گوناگوں مسائل کا شکار ہیں ، جس کی بنیادی وجہ وسیع رقبہ اور ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز کرنا ہے ، جس نے ہمیں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے ، ہمارے صوبے کو بھی دیگر صوبوں صحت کو حوالے سے دی جانے والے سہولیات دی جائیں تاکہ ہمارے صحت کے حوالے سے ہماری مشکلات میں کمی واقع ہو۔
2:10 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں اپنی ذمہ داریایوں سے ہرگز غافل نہیں
محکمہ صحت کے تمام عہداراں اس بات کے پابند ہے کہ وہ ان کی صوبے میں غیر موجودگی کے دوران بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں، انہوں نے تربت میں 5ڈینگی کیسز سامنے آنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی ہیلتھ کو ہدایت کی کہ وہ فوراً تربت جاکر علاقے میں مچھرمار اسپرے اورڈینگی کے مریضوں کی مکمل دیکھ بھال کو یقینی بنائیں ، یہ ہدایات انہو ں نے گزشتہ روز اسلام آبادسے ڈی جی ہیلتھ بلوچستان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے دی ، انہوں نے ڈی جی ہیلتھ سے ڈینگی کے مریضوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ، صوبائی وزیر نے بلوچستان میں ڈینگی کیسزسامنے آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے غفلت برتنے والے اہلکاران کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا، صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں بعض ڈمی منصوبوں کے پروجیکٹ منیجروں نے اپنی جیبیں بھرنے کے لیے محکمہ صحت کو بدنام اور لوگوں کے مسائل میں اضافہ کیاہے ، انہوں نے ڈی جی ہیلتھ کو ہدایت دی کہ وہ ڈینگی مریضوں کے فوری علاج معالجے کے لیے اقدامات اٹھائیں اوراس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں نیز ڈینگی کیسز سامنے آنے کی وجوہات بھی معلوم کریں اگر یہ کسی ذمہ دار کی غفلت ہے تو اس بات کا نوٹس لیا جائے تاکہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے
محکمہ صحت کے تمام عہداراں اس بات کے پابند ہے کہ وہ ان کی صوبے میں غیر موجودگی کے دوران بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں، انہوں نے تربت میں 5ڈینگی کیسز سامنے آنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی ہیلتھ کو ہدایت کی کہ وہ فوراً تربت جاکر علاقے میں مچھرمار اسپرے اورڈینگی کے مریضوں کی مکمل دیکھ بھال کو یقینی بنائیں ، یہ ہدایات انہو ں نے گزشتہ روز اسلام آبادسے ڈی جی ہیلتھ بلوچستان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے دی ، انہوں نے ڈی جی ہیلتھ سے ڈینگی کے مریضوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ، صوبائی وزیر نے بلوچستان میں ڈینگی کیسزسامنے آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے غفلت برتنے والے اہلکاران کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا، صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں بعض ڈمی منصوبوں کے پروجیکٹ منیجروں نے اپنی جیبیں بھرنے کے لیے محکمہ صحت کو بدنام اور لوگوں کے مسائل میں اضافہ کیاہے ، انہوں نے ڈی جی ہیلتھ کو ہدایت دی کہ وہ ڈینگی مریضوں کے فوری علاج معالجے کے لیے اقدامات اٹھائیں اوراس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں نیز ڈینگی کیسز سامنے آنے کی وجوہات بھی معلوم کریں اگر یہ کسی ذمہ دار کی غفلت ہے تو اس بات کا نوٹس لیا جائے تاکہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے
2:03 AM
|
No comments
No comments
۔صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے گزشتہ روز سول ہسپتال کوئٹہ کا اچانک دورہ کیا ڈی جی ہیلتھ نصیر بلوچ بھی ان کے ہمراہ تھے ،صوبائی وزیر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا ،اور زیر علاج مریضوں کی عیادت کی ، اس موقع پر انہوں نے شعبہ قلب کے ایمرجنسی یونٹ کا بھی دورہ کیا انہوں نے ہدایت کی کہ شعبہ قلب کے ایمرجنسی میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹراپنی موجودگی کو یقینی بنائیں کیونکہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں پر انسان موت سے سیکنڈ وں کے فاصلے پر ہوتا ہے اگر ان کی بر وقت طبی امداد مہیا نہ ہوسکے تو عین ممکن ہے کہ وہ اپنی زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔انہوں نے ڈی جی ہیلتھ کو شعبہ قلب میں نصب پرانی مشینری کو فوری طور پرتبدیل کرنے اور اس حوالے سے انہیں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ،جبکہ صوبائی وزیر نے ایم ایس کو بھی ہدایت کی کہ وہ ہسپتال میں تمام شعبوں کا روزانہ کی بنیاد پرمعائنہ کریں اورتمام اسٹاف کی حاضری کو یقینی بنائیں اگر کوئی اہلکار اپنے فرائض سے غفلت کا مرتکب پایا جائے تو اُس کیخلاف بلاتفریق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے مریضوں کے لیے ادویات کی فراہمی کوبھی یقینی بنانے کی ہدایت کی ، اس موقع پر صوبائی وزیر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا بھی معائنہ کیااور ان میں سے بعض شعبہ جات کی غلط تعمیر پر بھی اظہار برہمی کیا ۔انہو ں نے سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ ہسپتال میں کسی قسم کی تعمیر اُن کے منظوری کے بغیر نہ کی جائے ، اس حوالے سے خلاف ورزی کے مرتکب اہلکاران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
1:55 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے گزشتہ روزیہاں اغواء کاروں کے چنگل سے آزاد ہونے والے ممتاز
معالج ڈاکٹر مناف ترین سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور اُن کی خیریت دریافت کی ، انہوں نے ڈاکٹر مناف ترین کے باحفاظت اپنے گھر اور اہل خانہ کے پاس پہنچنے پر اظہار اطمینان کیا،انہوں نے ڈاکٹر مناف ترین کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
معالج ڈاکٹر مناف ترین سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور اُن کی خیریت دریافت کی ، انہوں نے ڈاکٹر مناف ترین کے باحفاظت اپنے گھر اور اہل خانہ کے پاس پہنچنے پر اظہار اطمینان کیا،انہوں نے ڈاکٹر مناف ترین کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
5:56 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت بلوچ نے کہا ہے کہ ایڈز ایک خطرناک اور مہلک بیماری ہے 2دسمبر کو عالمی سطح
پر یوم ایڈز منانے کا مقصد اس مہلک مرض کی روک تھام کیلئے کام کرنے کا عہد اور عوامی آگاہی ہے بلوچستان میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن سے حفاظی تدابیر اپنا کر بچاجاسکتا ہے صوبے میں اب تک ایڈز کے 288کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 188کا تعلق کوئٹہ سے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایڈز کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب محکمہ صحت لاوارث اور بے جان نہیں ہر شخص کا احتساب کریں گے کیونکہ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور بلا رنگ ونسل عوام کی خدمت کی راہ پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہیلتھ ایجوکیشن کی کمی ہے جس کی وجہ سے لوگ بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں دوسری جانب بدقسمتی سے یہاں پر ماضی میں شعبہ صحت میں عملی طور پر کوئی کام نہیں کیاگیا۔ عالمی اداروں کے تعاون سے چلنے والے اکثر پراجیکٹس اور پروگرام منیجر کوئٹہ سے زیادہ اسلام آباد میں رہتے ہیں جس سے وہ بلوچستان حکومت سے زیادہ اسلام آباد کے ملازم معلوم ہوتے ہیں جب مجھے ایک بریفنگ میں اس بات سے آگاہ کیاگیا تو مجھے دکھ پہنچا کہ صوبے کے غریب عوام کس طرح کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں جبکہ یہ لوگوں کی مشکلات سے بے خبر زندگی گذار رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ آج اس فورم پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ تین ماہ تک کوئی بھی پروگرام منیجر صوبے سے اسلام آبادنہیں جائے گا وہ ان آفیسران کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے کہ وہ اسلام آباد کی بجائے صوبے کے تمام اضلاع میں جاکر اپنے اپنے پراجیکٹس کے حوالے سے معلومات لیں اور تحریری طور پر انہیں پراجیکٹ کی کارکردگی سے آگاہ کریں ایسا نہ کرنے والے آفیسرز کیلئے محکمہ صحت میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور ان آفیسروں پراجیکٹس سے فوری طور پر فارغ کردیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی ان کی عالمی ڈونرز سے ملاقاتیں ہوتی ہیں ان آفیسران کی غفلت اور ناقص کارکردگی وجہ سے انہیں شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے صوبے میں صحت سے متعلق منصوبوں کیلئے عالمی ڈونرز نے اپنے وعدوں کے مطابق 100فیصد فنڈز جاری کئے ہیں جبکہ ان منصوبوں پر کام کرنے والوں کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی ہے مگر اب انہوں نے ڈونرز کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ یہ فنڈز مخصوص کاغذی منصوبوں کی نظر نہیں ہوں گے بلکہ جس مقصد کیلئے یہ دےئے گئے ہیں اسی پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ایک موذی مرض ایڈز جس کے مختلف طریقوں سے پھیلنے کا خدشہ موجود رہتا ہے کے 18اسکرننگ سینٹرز بند پڑے ہیں جو کہ ایک انسانیت سوز اقدام ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ یہاں کسی پر تنقید کرنے نہیں بلکہ اپنی سوچ فکر لے کر آئے ہیں لیکن ایسے منصوبوں کو نظر انداز کرنے والوں کی حالت پر رونا آتا ہے انہوں نے کس طرح اس موذی مرض کے حوالے سے اپنے سینٹرز کو بند رکھا ہے۔ ان سینٹرز کو بہت جلد دوبارہ فعال کردیا جائے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی محترمہ یاسمین لہڑی نے کہاکہ اس وقت بلوچستان میں بیماریوں کے پھیلنے کی بڑی وجہ ہیلتھ ایجوکیشن کی کمی ہے اور ایڈز جیسے مہلک مرض اور اس کی روک تھام کے حوالے سے آگاہی کی کمی ہے جس سے دوردراز علاقوں میں رہائش پذیر لوگ متاثر ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت اور ایڈز کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیمیں اپنے اپنے طور پر آگاہی مہم شروع کریں تاکہ عوام کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جاسکے
پر یوم ایڈز منانے کا مقصد اس مہلک مرض کی روک تھام کیلئے کام کرنے کا عہد اور عوامی آگاہی ہے بلوچستان میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن سے حفاظی تدابیر اپنا کر بچاجاسکتا ہے صوبے میں اب تک ایڈز کے 288کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 188کا تعلق کوئٹہ سے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایڈز کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب محکمہ صحت لاوارث اور بے جان نہیں ہر شخص کا احتساب کریں گے کیونکہ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور بلا رنگ ونسل عوام کی خدمت کی راہ پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہیلتھ ایجوکیشن کی کمی ہے جس کی وجہ سے لوگ بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں دوسری جانب بدقسمتی سے یہاں پر ماضی میں شعبہ صحت میں عملی طور پر کوئی کام نہیں کیاگیا۔ عالمی اداروں کے تعاون سے چلنے والے اکثر پراجیکٹس اور پروگرام منیجر کوئٹہ سے زیادہ اسلام آباد میں رہتے ہیں جس سے وہ بلوچستان حکومت سے زیادہ اسلام آباد کے ملازم معلوم ہوتے ہیں جب مجھے ایک بریفنگ میں اس بات سے آگاہ کیاگیا تو مجھے دکھ پہنچا کہ صوبے کے غریب عوام کس طرح کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں جبکہ یہ لوگوں کی مشکلات سے بے خبر زندگی گذار رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ آج اس فورم پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ تین ماہ تک کوئی بھی پروگرام منیجر صوبے سے اسلام آبادنہیں جائے گا وہ ان آفیسران کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے کہ وہ اسلام آباد کی بجائے صوبے کے تمام اضلاع میں جاکر اپنے اپنے پراجیکٹس کے حوالے سے معلومات لیں اور تحریری طور پر انہیں پراجیکٹ کی کارکردگی سے آگاہ کریں ایسا نہ کرنے والے آفیسرز کیلئے محکمہ صحت میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور ان آفیسروں پراجیکٹس سے فوری طور پر فارغ کردیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی ان کی عالمی ڈونرز سے ملاقاتیں ہوتی ہیں ان آفیسران کی غفلت اور ناقص کارکردگی وجہ سے انہیں شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے صوبے میں صحت سے متعلق منصوبوں کیلئے عالمی ڈونرز نے اپنے وعدوں کے مطابق 100فیصد فنڈز جاری کئے ہیں جبکہ ان منصوبوں پر کام کرنے والوں کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی ہے مگر اب انہوں نے ڈونرز کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ یہ فنڈز مخصوص کاغذی منصوبوں کی نظر نہیں ہوں گے بلکہ جس مقصد کیلئے یہ دےئے گئے ہیں اسی پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ایک موذی مرض ایڈز جس کے مختلف طریقوں سے پھیلنے کا خدشہ موجود رہتا ہے کے 18اسکرننگ سینٹرز بند پڑے ہیں جو کہ ایک انسانیت سوز اقدام ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ یہاں کسی پر تنقید کرنے نہیں بلکہ اپنی سوچ فکر لے کر آئے ہیں لیکن ایسے منصوبوں کو نظر انداز کرنے والوں کی حالت پر رونا آتا ہے انہوں نے کس طرح اس موذی مرض کے حوالے سے اپنے سینٹرز کو بند رکھا ہے۔ ان سینٹرز کو بہت جلد دوبارہ فعال کردیا جائے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی محترمہ یاسمین لہڑی نے کہاکہ اس وقت بلوچستان میں بیماریوں کے پھیلنے کی بڑی وجہ ہیلتھ ایجوکیشن کی کمی ہے اور ایڈز جیسے مہلک مرض اور اس کی روک تھام کے حوالے سے آگاہی کی کمی ہے جس سے دوردراز علاقوں میں رہائش پذیر لوگ متاثر ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت اور ایڈز کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیمیں اپنے اپنے طور پر آگاہی مہم شروع کریں تاکہ عوام کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جاسکے
5:45 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے ماہر معالج قلب ڈاکٹر مناف ترین کی بخیریت گھر واپسی پر مسرت کا
اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہبخیرخوبی اپنے اہلخانہ کے پاس پہنچ گئے ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں صوبے کے ڈاکٹروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے ،اس حوالے سے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ڈاکٹرز دکھی انسانیت کے لیے کسی فرشتے سے کم نہیں ان کی جان و مال کی حفاظت کو ہم اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں اور ڈاکٹرز ہمارے لیے قابل احترام ہے۔
اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہبخیرخوبی اپنے اہلخانہ کے پاس پہنچ گئے ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں صوبے کے ڈاکٹروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے ،اس حوالے سے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ڈاکٹرز دکھی انسانیت کے لیے کسی فرشتے سے کم نہیں ان کی جان و مال کی حفاظت کو ہم اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں اور ڈاکٹرز ہمارے لیے قابل احترام ہے۔









