صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں نیشنل پارٹی بھر پور شرکت کرے گی۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سینکڑوں کی تعداد میں نیشنل پارٹی کے امیدواروں کی بلامقابلہ منتخب ہو نا اس بات کی دلیل ہیں کہ نیشنل پارٹی غریب عوام کی جماعت ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا ، انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی عوام کو بااختیار دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی روح کی مانند ہے جس نظام نے ہمیشہ عوام کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کیا ہے ،یہ نظام عوام کی فلاح و بہبود کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، جس سے عوام کے کافی مسائل حل ہو جاتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پارٹی کے فیصلے کے مطابق ہم بلدیاتی الیکشن میں بھر پور حصہ لے رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پنجگور میں 6ڈسٹرکٹ ممبر اور متعد د وارڈ ز ممبر کا بلا مقابلہ منتخب ہونا ہماری پارٹی کی کامیابی ہے ،انہوں نے عوام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ نیشنل پارٹی کے امیدواروں کو انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی دلائیں تاکہ ہم عوام کے مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکیں۔
4:34 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ اب محکمہ صحت میں کرپشن ،ڈمی اور کاغذی منصوبوں کے
لیے کوئی گنجائش نہیں ہے ، جو فنڈ جس کام کے لیے ہو گا اسی پر خرچ کیا جائے گا ، ایسا کرکے ہم صوبے کی عوام پر احسان نہیں بلکہ انکے حق کی ادائیگی اور بلوچستان سے وابستگی کا حق ادا کررہے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد چوتھی پبلک ہیلتھ کانفرنس 2013سے خطاب کے دوران کیا ، انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پرخوشی محسوس نہیں کرتے ہیں کہ وہ بحیثیت وزیر یہاں موجود ہیں بلکہ اس سے زیادہ خوشی اور فخر اس بات پر ہے کہ آج صوبے بھر کی عوام کی حقیقی نمائندگی کر رہا ہوں ، آج لوگ یہا ں اسلام آباد میں صوبے کے مسائل پر بات کر رہا ہوں تو یہ دراصل ژوب سے گوادر تک بلوچستان کی عوام کی آوازہے ، انہوں نے کہا کہ چونکہ آج بچوں کے صحت کے حوالے سے بات ہورہی ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ یہاں بلوچستان کے بچوں کی صحت کے حوالے سے بات نہ کی جائے ، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بچے صحت کے حوالے گوناگوں مسائل کا شکار ہیں ، جس کی بنیادی وجہ وسیع رقبہ اور ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز کرنا ہے ، جس نے ہمیں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے ، ہمارے صوبے کو بھی دیگر صوبوں صحت کو حوالے سے دی جانے والے سہولیات دی جائیں تاکہ ہمارے صحت کے حوالے سے ہماری مشکلات میں کمی واقع ہو۔
لیے کوئی گنجائش نہیں ہے ، جو فنڈ جس کام کے لیے ہو گا اسی پر خرچ کیا جائے گا ، ایسا کرکے ہم صوبے کی عوام پر احسان نہیں بلکہ انکے حق کی ادائیگی اور بلوچستان سے وابستگی کا حق ادا کررہے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد چوتھی پبلک ہیلتھ کانفرنس 2013سے خطاب کے دوران کیا ، انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پرخوشی محسوس نہیں کرتے ہیں کہ وہ بحیثیت وزیر یہاں موجود ہیں بلکہ اس سے زیادہ خوشی اور فخر اس بات پر ہے کہ آج صوبے بھر کی عوام کی حقیقی نمائندگی کر رہا ہوں ، آج لوگ یہا ں اسلام آباد میں صوبے کے مسائل پر بات کر رہا ہوں تو یہ دراصل ژوب سے گوادر تک بلوچستان کی عوام کی آوازہے ، انہوں نے کہا کہ چونکہ آج بچوں کے صحت کے حوالے سے بات ہورہی ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ یہاں بلوچستان کے بچوں کی صحت کے حوالے سے بات نہ کی جائے ، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بچے صحت کے حوالے گوناگوں مسائل کا شکار ہیں ، جس کی بنیادی وجہ وسیع رقبہ اور ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز کرنا ہے ، جس نے ہمیں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے ، ہمارے صوبے کو بھی دیگر صوبوں صحت کو حوالے سے دی جانے والے سہولیات دی جائیں تاکہ ہمارے صحت کے حوالے سے ہماری مشکلات میں کمی واقع ہو۔
2:10 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں اپنی ذمہ داریایوں سے ہرگز غافل نہیں
محکمہ صحت کے تمام عہداراں اس بات کے پابند ہے کہ وہ ان کی صوبے میں غیر موجودگی کے دوران بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں، انہوں نے تربت میں 5ڈینگی کیسز سامنے آنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی ہیلتھ کو ہدایت کی کہ وہ فوراً تربت جاکر علاقے میں مچھرمار اسپرے اورڈینگی کے مریضوں کی مکمل دیکھ بھال کو یقینی بنائیں ، یہ ہدایات انہو ں نے گزشتہ روز اسلام آبادسے ڈی جی ہیلتھ بلوچستان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے دی ، انہوں نے ڈی جی ہیلتھ سے ڈینگی کے مریضوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ، صوبائی وزیر نے بلوچستان میں ڈینگی کیسزسامنے آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے غفلت برتنے والے اہلکاران کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا، صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں بعض ڈمی منصوبوں کے پروجیکٹ منیجروں نے اپنی جیبیں بھرنے کے لیے محکمہ صحت کو بدنام اور لوگوں کے مسائل میں اضافہ کیاہے ، انہوں نے ڈی جی ہیلتھ کو ہدایت دی کہ وہ ڈینگی مریضوں کے فوری علاج معالجے کے لیے اقدامات اٹھائیں اوراس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں نیز ڈینگی کیسز سامنے آنے کی وجوہات بھی معلوم کریں اگر یہ کسی ذمہ دار کی غفلت ہے تو اس بات کا نوٹس لیا جائے تاکہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے
محکمہ صحت کے تمام عہداراں اس بات کے پابند ہے کہ وہ ان کی صوبے میں غیر موجودگی کے دوران بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں، انہوں نے تربت میں 5ڈینگی کیسز سامنے آنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی ہیلتھ کو ہدایت کی کہ وہ فوراً تربت جاکر علاقے میں مچھرمار اسپرے اورڈینگی کے مریضوں کی مکمل دیکھ بھال کو یقینی بنائیں ، یہ ہدایات انہو ں نے گزشتہ روز اسلام آبادسے ڈی جی ہیلتھ بلوچستان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے دی ، انہوں نے ڈی جی ہیلتھ سے ڈینگی کے مریضوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ، صوبائی وزیر نے بلوچستان میں ڈینگی کیسزسامنے آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے غفلت برتنے والے اہلکاران کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا، صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں بعض ڈمی منصوبوں کے پروجیکٹ منیجروں نے اپنی جیبیں بھرنے کے لیے محکمہ صحت کو بدنام اور لوگوں کے مسائل میں اضافہ کیاہے ، انہوں نے ڈی جی ہیلتھ کو ہدایت دی کہ وہ ڈینگی مریضوں کے فوری علاج معالجے کے لیے اقدامات اٹھائیں اوراس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں نیز ڈینگی کیسز سامنے آنے کی وجوہات بھی معلوم کریں اگر یہ کسی ذمہ دار کی غفلت ہے تو اس بات کا نوٹس لیا جائے تاکہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے
2:03 AM
|
No comments
No comments
۔صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے گزشتہ روز سول ہسپتال کوئٹہ کا اچانک دورہ کیا ڈی جی ہیلتھ نصیر بلوچ بھی ان کے ہمراہ تھے ،صوبائی وزیر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا ،اور زیر علاج مریضوں کی عیادت کی ، اس موقع پر انہوں نے شعبہ قلب کے ایمرجنسی یونٹ کا بھی دورہ کیا انہوں نے ہدایت کی کہ شعبہ قلب کے ایمرجنسی میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹراپنی موجودگی کو یقینی بنائیں کیونکہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں پر انسان موت سے سیکنڈ وں کے فاصلے پر ہوتا ہے اگر ان کی بر وقت طبی امداد مہیا نہ ہوسکے تو عین ممکن ہے کہ وہ اپنی زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔انہوں نے ڈی جی ہیلتھ کو شعبہ قلب میں نصب پرانی مشینری کو فوری طور پرتبدیل کرنے اور اس حوالے سے انہیں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ،جبکہ صوبائی وزیر نے ایم ایس کو بھی ہدایت کی کہ وہ ہسپتال میں تمام شعبوں کا روزانہ کی بنیاد پرمعائنہ کریں اورتمام اسٹاف کی حاضری کو یقینی بنائیں اگر کوئی اہلکار اپنے فرائض سے غفلت کا مرتکب پایا جائے تو اُس کیخلاف بلاتفریق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے مریضوں کے لیے ادویات کی فراہمی کوبھی یقینی بنانے کی ہدایت کی ، اس موقع پر صوبائی وزیر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا بھی معائنہ کیااور ان میں سے بعض شعبہ جات کی غلط تعمیر پر بھی اظہار برہمی کیا ۔انہو ں نے سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ ہسپتال میں کسی قسم کی تعمیر اُن کے منظوری کے بغیر نہ کی جائے ، اس حوالے سے خلاف ورزی کے مرتکب اہلکاران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
1:55 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے گزشتہ روزیہاں اغواء کاروں کے چنگل سے آزاد ہونے والے ممتاز
معالج ڈاکٹر مناف ترین سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور اُن کی خیریت دریافت کی ، انہوں نے ڈاکٹر مناف ترین کے باحفاظت اپنے گھر اور اہل خانہ کے پاس پہنچنے پر اظہار اطمینان کیا،انہوں نے ڈاکٹر مناف ترین کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
معالج ڈاکٹر مناف ترین سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور اُن کی خیریت دریافت کی ، انہوں نے ڈاکٹر مناف ترین کے باحفاظت اپنے گھر اور اہل خانہ کے پاس پہنچنے پر اظہار اطمینان کیا،انہوں نے ڈاکٹر مناف ترین کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
5:56 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت بلوچ نے کہا ہے کہ ایڈز ایک خطرناک اور مہلک بیماری ہے 2دسمبر کو عالمی سطح
پر یوم ایڈز منانے کا مقصد اس مہلک مرض کی روک تھام کیلئے کام کرنے کا عہد اور عوامی آگاہی ہے بلوچستان میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن سے حفاظی تدابیر اپنا کر بچاجاسکتا ہے صوبے میں اب تک ایڈز کے 288کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 188کا تعلق کوئٹہ سے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایڈز کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب محکمہ صحت لاوارث اور بے جان نہیں ہر شخص کا احتساب کریں گے کیونکہ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور بلا رنگ ونسل عوام کی خدمت کی راہ پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہیلتھ ایجوکیشن کی کمی ہے جس کی وجہ سے لوگ بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں دوسری جانب بدقسمتی سے یہاں پر ماضی میں شعبہ صحت میں عملی طور پر کوئی کام نہیں کیاگیا۔ عالمی اداروں کے تعاون سے چلنے والے اکثر پراجیکٹس اور پروگرام منیجر کوئٹہ سے زیادہ اسلام آباد میں رہتے ہیں جس سے وہ بلوچستان حکومت سے زیادہ اسلام آباد کے ملازم معلوم ہوتے ہیں جب مجھے ایک بریفنگ میں اس بات سے آگاہ کیاگیا تو مجھے دکھ پہنچا کہ صوبے کے غریب عوام کس طرح کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں جبکہ یہ لوگوں کی مشکلات سے بے خبر زندگی گذار رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ آج اس فورم پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ تین ماہ تک کوئی بھی پروگرام منیجر صوبے سے اسلام آبادنہیں جائے گا وہ ان آفیسران کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے کہ وہ اسلام آباد کی بجائے صوبے کے تمام اضلاع میں جاکر اپنے اپنے پراجیکٹس کے حوالے سے معلومات لیں اور تحریری طور پر انہیں پراجیکٹ کی کارکردگی سے آگاہ کریں ایسا نہ کرنے والے آفیسرز کیلئے محکمہ صحت میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور ان آفیسروں پراجیکٹس سے فوری طور پر فارغ کردیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی ان کی عالمی ڈونرز سے ملاقاتیں ہوتی ہیں ان آفیسران کی غفلت اور ناقص کارکردگی وجہ سے انہیں شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے صوبے میں صحت سے متعلق منصوبوں کیلئے عالمی ڈونرز نے اپنے وعدوں کے مطابق 100فیصد فنڈز جاری کئے ہیں جبکہ ان منصوبوں پر کام کرنے والوں کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی ہے مگر اب انہوں نے ڈونرز کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ یہ فنڈز مخصوص کاغذی منصوبوں کی نظر نہیں ہوں گے بلکہ جس مقصد کیلئے یہ دےئے گئے ہیں اسی پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ایک موذی مرض ایڈز جس کے مختلف طریقوں سے پھیلنے کا خدشہ موجود رہتا ہے کے 18اسکرننگ سینٹرز بند پڑے ہیں جو کہ ایک انسانیت سوز اقدام ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ یہاں کسی پر تنقید کرنے نہیں بلکہ اپنی سوچ فکر لے کر آئے ہیں لیکن ایسے منصوبوں کو نظر انداز کرنے والوں کی حالت پر رونا آتا ہے انہوں نے کس طرح اس موذی مرض کے حوالے سے اپنے سینٹرز کو بند رکھا ہے۔ ان سینٹرز کو بہت جلد دوبارہ فعال کردیا جائے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی محترمہ یاسمین لہڑی نے کہاکہ اس وقت بلوچستان میں بیماریوں کے پھیلنے کی بڑی وجہ ہیلتھ ایجوکیشن کی کمی ہے اور ایڈز جیسے مہلک مرض اور اس کی روک تھام کے حوالے سے آگاہی کی کمی ہے جس سے دوردراز علاقوں میں رہائش پذیر لوگ متاثر ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت اور ایڈز کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیمیں اپنے اپنے طور پر آگاہی مہم شروع کریں تاکہ عوام کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جاسکے
پر یوم ایڈز منانے کا مقصد اس مہلک مرض کی روک تھام کیلئے کام کرنے کا عہد اور عوامی آگاہی ہے بلوچستان میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن سے حفاظی تدابیر اپنا کر بچاجاسکتا ہے صوبے میں اب تک ایڈز کے 288کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 188کا تعلق کوئٹہ سے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایڈز کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب محکمہ صحت لاوارث اور بے جان نہیں ہر شخص کا احتساب کریں گے کیونکہ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور بلا رنگ ونسل عوام کی خدمت کی راہ پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہیلتھ ایجوکیشن کی کمی ہے جس کی وجہ سے لوگ بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں دوسری جانب بدقسمتی سے یہاں پر ماضی میں شعبہ صحت میں عملی طور پر کوئی کام نہیں کیاگیا۔ عالمی اداروں کے تعاون سے چلنے والے اکثر پراجیکٹس اور پروگرام منیجر کوئٹہ سے زیادہ اسلام آباد میں رہتے ہیں جس سے وہ بلوچستان حکومت سے زیادہ اسلام آباد کے ملازم معلوم ہوتے ہیں جب مجھے ایک بریفنگ میں اس بات سے آگاہ کیاگیا تو مجھے دکھ پہنچا کہ صوبے کے غریب عوام کس طرح کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں جبکہ یہ لوگوں کی مشکلات سے بے خبر زندگی گذار رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ آج اس فورم پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ تین ماہ تک کوئی بھی پروگرام منیجر صوبے سے اسلام آبادنہیں جائے گا وہ ان آفیسران کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے کہ وہ اسلام آباد کی بجائے صوبے کے تمام اضلاع میں جاکر اپنے اپنے پراجیکٹس کے حوالے سے معلومات لیں اور تحریری طور پر انہیں پراجیکٹ کی کارکردگی سے آگاہ کریں ایسا نہ کرنے والے آفیسرز کیلئے محکمہ صحت میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور ان آفیسروں پراجیکٹس سے فوری طور پر فارغ کردیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی ان کی عالمی ڈونرز سے ملاقاتیں ہوتی ہیں ان آفیسران کی غفلت اور ناقص کارکردگی وجہ سے انہیں شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے صوبے میں صحت سے متعلق منصوبوں کیلئے عالمی ڈونرز نے اپنے وعدوں کے مطابق 100فیصد فنڈز جاری کئے ہیں جبکہ ان منصوبوں پر کام کرنے والوں کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی ہے مگر اب انہوں نے ڈونرز کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ یہ فنڈز مخصوص کاغذی منصوبوں کی نظر نہیں ہوں گے بلکہ جس مقصد کیلئے یہ دےئے گئے ہیں اسی پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ایک موذی مرض ایڈز جس کے مختلف طریقوں سے پھیلنے کا خدشہ موجود رہتا ہے کے 18اسکرننگ سینٹرز بند پڑے ہیں جو کہ ایک انسانیت سوز اقدام ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ یہاں کسی پر تنقید کرنے نہیں بلکہ اپنی سوچ فکر لے کر آئے ہیں لیکن ایسے منصوبوں کو نظر انداز کرنے والوں کی حالت پر رونا آتا ہے انہوں نے کس طرح اس موذی مرض کے حوالے سے اپنے سینٹرز کو بند رکھا ہے۔ ان سینٹرز کو بہت جلد دوبارہ فعال کردیا جائے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی محترمہ یاسمین لہڑی نے کہاکہ اس وقت بلوچستان میں بیماریوں کے پھیلنے کی بڑی وجہ ہیلتھ ایجوکیشن کی کمی ہے اور ایڈز جیسے مہلک مرض اور اس کی روک تھام کے حوالے سے آگاہی کی کمی ہے جس سے دوردراز علاقوں میں رہائش پذیر لوگ متاثر ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت اور ایڈز کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیمیں اپنے اپنے طور پر آگاہی مہم شروع کریں تاکہ عوام کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جاسکے
5:45 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے ماہر معالج قلب ڈاکٹر مناف ترین کی بخیریت گھر واپسی پر مسرت کا
اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہبخیرخوبی اپنے اہلخانہ کے پاس پہنچ گئے ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں صوبے کے ڈاکٹروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے ،اس حوالے سے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ڈاکٹرز دکھی انسانیت کے لیے کسی فرشتے سے کم نہیں ان کی جان و مال کی حفاظت کو ہم اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں اور ڈاکٹرز ہمارے لیے قابل احترام ہے۔
اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہبخیرخوبی اپنے اہلخانہ کے پاس پہنچ گئے ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں صوبے کے ڈاکٹروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے ،اس حوالے سے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ڈاکٹرز دکھی انسانیت کے لیے کسی فرشتے سے کم نہیں ان کی جان و مال کی حفاظت کو ہم اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں اور ڈاکٹرز ہمارے لیے قابل احترام ہے۔
5:36 AM
|
No comments
No comments
5:18 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے وفاقی حکومت اور بین الاقوامی رفاہی اداروں سے کہا ہے کہ وہ بلوچستان
میں مہلک امراض کی تدارک کیلئے صوبے میں صحت کے شعبے میں صوبائی حکومت کی مدد کریں تاکہ قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچائی جاسکیں اور مہلک امراض پر کسی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوسکیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر مملکت برائے صحت سارہ افضل تارڑ سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پریو ایس ایڈ کے کنٹری ڈائریکٹر اور سینٹر حسیب خان بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل زیادہ جبکہ وسائل محدود ہیں جس کی وجہ سے صوبائی حکومت مہلک بیماریوں پرتنہا قابو نہیں پاسکتی انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گذشتہ 8سالوں کے دوران جس طرح محکمہ صحت کو مسائل سے دوچار کیاگیا اس نے ہماری مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ خصوصاً عالمی فلاحی اداروں کے جاری منصوبوں میں اس وقت کی حکومت نے میرٹ کی بجائے اپنے مفادات کو مد نظر رکھا ان اداروں نے صوبے میں گڈ گورننس نہ ہونے کی وجہ سے بعض اہم منصوبوں کو نظر انداز کرنا شروع کردیا جس کا نقصان صوبے کے عوام کو ہوا انہوں نے کہا کہ اس سلسلے وہ خود بھی تمام بین الاقوامی رفاہی اداروں سے رابطہ کررہے ہیں جس کا مقصد ان کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی محکمہ صحت میں اصلاحات شروع کردی ہیں جس سے بین الاقوامی اداروں کااعتماد بحال ہوگا اور خصوصاً صوبے کے عوام کو ان اقدامات سے استفادہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہر ہسپتال میں ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے صوبے میں مختلف علاقوں میں ہیپاٹائٹس سی اور بی کے سینکڑوں کی تعداد میں کیس رپورٹ ہورہے ہیں جس کی بڑی وجہ مہنگی ادویات ہیں صوبائی حکومت اپنے دستیاب وسائل سے یہ ادویات فراہم کررہی ہے جس کیلئے وفاق کی مدد کی بھی ضرورت ہے اس موقع پر وفاقی وزیر صحت سارہ افضل تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کوشش ہے کہ بلوچستان سے محرومیوں کا خاتمہ ہو اور صوبے کو تمام ضروری وسائل فراہم کئے جائیں تاکہ وہ اپنے مسائل خود حل کرسکے انہوں نے کہا کہ ان کا حالیہ دورہ بھی ان ہی کاوشوں کی ایک کڑی ہے جس میں انہوں نے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی ہے اور وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گی۔
میں مہلک امراض کی تدارک کیلئے صوبے میں صحت کے شعبے میں صوبائی حکومت کی مدد کریں تاکہ قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچائی جاسکیں اور مہلک امراض پر کسی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوسکیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر مملکت برائے صحت سارہ افضل تارڑ سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پریو ایس ایڈ کے کنٹری ڈائریکٹر اور سینٹر حسیب خان بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل زیادہ جبکہ وسائل محدود ہیں جس کی وجہ سے صوبائی حکومت مہلک بیماریوں پرتنہا قابو نہیں پاسکتی انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گذشتہ 8سالوں کے دوران جس طرح محکمہ صحت کو مسائل سے دوچار کیاگیا اس نے ہماری مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ خصوصاً عالمی فلاحی اداروں کے جاری منصوبوں میں اس وقت کی حکومت نے میرٹ کی بجائے اپنے مفادات کو مد نظر رکھا ان اداروں نے صوبے میں گڈ گورننس نہ ہونے کی وجہ سے بعض اہم منصوبوں کو نظر انداز کرنا شروع کردیا جس کا نقصان صوبے کے عوام کو ہوا انہوں نے کہا کہ اس سلسلے وہ خود بھی تمام بین الاقوامی رفاہی اداروں سے رابطہ کررہے ہیں جس کا مقصد ان کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی محکمہ صحت میں اصلاحات شروع کردی ہیں جس سے بین الاقوامی اداروں کااعتماد بحال ہوگا اور خصوصاً صوبے کے عوام کو ان اقدامات سے استفادہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہر ہسپتال میں ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے صوبے میں مختلف علاقوں میں ہیپاٹائٹس سی اور بی کے سینکڑوں کی تعداد میں کیس رپورٹ ہورہے ہیں جس کی بڑی وجہ مہنگی ادویات ہیں صوبائی حکومت اپنے دستیاب وسائل سے یہ ادویات فراہم کررہی ہے جس کیلئے وفاق کی مدد کی بھی ضرورت ہے اس موقع پر وفاقی وزیر صحت سارہ افضل تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کوشش ہے کہ بلوچستان سے محرومیوں کا خاتمہ ہو اور صوبے کو تمام ضروری وسائل فراہم کئے جائیں تاکہ وہ اپنے مسائل خود حل کرسکے انہوں نے کہا کہ ان کا حالیہ دورہ بھی ان ہی کاوشوں کی ایک کڑی ہے جس میں انہوں نے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی ہے اور وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گی۔
5:02 AM
|
No comments
No comments
اسلام آباد:یکم نومبر:۔ صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے کہاہے اب بلوچستان میں جعلی سکیمات یا منصوبوں کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی موجودہ حکومت میرٹ کی پالیسی لیکرآئی ہے کرپشن کے ستائے ہوئے لوگوں کوکسی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑاجاسکتا، انہوں نے کہا ماضی میں چند لوگوں نے کرپشن کرکے اپنے منظورنظرافراد کو فائد پہنچانے کے لیے پورے صوبے کو ملکی سطح پربدنام کیااب اس کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جو بھی کام ہوگا میرٹ پرہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میںیونیورسل ادیم کے سربراہ سے ضلعی سطح پر تمام ہسپتالوں میں ایمبولینس اور طبی آلات کی فراہمی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کو صحت کے حوالے سے کافی مشکلات درپیش ہیں اس حوالے سے وسائل کی کمی کے علاوہ دوسری بڑی وجہ گزشتہ 8سالوں کے دوران سابقہ حکومتوں کی صحت کے شعبے میں کام کرنے والے عالمی اداروں کے فراہم کردہ فنڈزکو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال میں لانا ہے جس کے نتیجے میں بلوچستان میں صحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا،انہوں کہا کہ اب صوبے میں عوام کی نمائندہ حکومت برسراقتدار آئی ہے جوتمام دستیاب مالی وسائل کوعوام پر خرچ کرنے کا عزم رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ صوبے کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔
4:27 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز ہمارا سرمایہ ہیں - معاشرے میں ان کی موجودگی دکھی انسانیت کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ، ڈاکٹروں کو دھونس دھمکی دیناانسانیت دشمنی اور خلاف قانون ہے، ڈاکٹر مناف ترین کی رہائی کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ہیلپرز آئی ہسپتال کے دورہ کے موقع پر کیا - انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آج معاشرے میں مسیحا سے محروم کیا جارہا ہے ۔ڈاکٹروں کو اغواء کیا جارہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز دراصل اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے کر اپنے فرض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ثواب دارین حاصل کر رہے ہیں جوکہ انہیں دیگر شعبوں سے ممتاز کرتا ہے، انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کوہدایت کی کہ وہ مریضوں کو صحت کی تمام تر سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائیں_ اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ،انہوں نے کہاکہ عوام کی صحت کے حوالے سے شکایت کا جائزہ لینے وہ خو د ضلعی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کریں گے، ہسپتال انتظامیہ نے صوبائی وزیر کو اپنے مسائل سے بھی آگاہ کی ، صوبائی وزیر نے ہستپال میں مرمتی کاموں کیلئے 30لاکھ روپے اور 40لاکھ روپے کی ادویات دینے کا اعلان کیاجبکہ ہسپتال کے پانی کے مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے جلد از جلد ہسپتال میں بور لگانے کا اعلان کیااور ہسپتال کے لیے ایمبولینس کی فراہمی کے احکامات جاری کیے، انہوں نے ہسپتال میں صفائی کی صورتحا ل پر اطمینا ن اظہار کیا اور ڈاکٹروں و تمام پیرا میڈیکس اسٹاف کی کارکردگی کو سراہا، اس موقع پر صوبائی وزیر نے ہسپتال کی او پی ڈی کے لیے کمپیوٹرکی فراہمی اور کمپیوٹرائزڈ
-پرچی سسٹم کے فوری اجراء کی ہدایت کی
-پرچی سسٹم کے فوری اجراء کی ہدایت کی
6:57 AM
|
No comments
No comments
6:49 AM
|
No comments
No comments
Rep:BNP awami ke markazi rehnuma or sabiqa charman district concel panjgur or maroof shaksiyat charman shoaib ahmed baloch sabiqa charman haji Ameer jan baloch mumtaz quabile or saise rehnuma sardar Abdul Hakeem rodine BNP mangel ke Muhammad Sadiq Baloch BNP awami ke takedar Munir Ahmed apne hazaron sation ke hamra NP ke rehnuma soobai wazeer'a sehat Rahmat Baloch ki mojudagi ma NP ma shamoliyat ka elan kar rahe hain.
7:02 AM
|
No comments
No comments
Minister for Health Rahmat Baloch panjgur k 1 mazoor shakhs ko imdadi cheque de rahe hain.
2:00 PM
|
No comments
No comments
4:40 AM
|
No comments
No comments
صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ ہم نے آتے ہی صحت کے لیے اپنا وژن واضح کر دیا تھا کہ گھوسٹ اور گھر بیٹھے ملازمین اب محکمہ صحت میں نہیں چل سکیں گے، کیونکہ اب ماضی کی حکومت اور نہ ہی وہی سوچ رکھنے والے حکومت ہے اب اگر کوئی اُسی سوچ کے مطابق چلنا چاہتا ہے تو یہ اُس کی خام خیالی ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اسلام آباد سے کوئٹہ واپسی پر ائیر پورٹ سے بی ایم سی ہسپتال کے دورہ کے موقع پر کیا۔انہوں نے اس موقع پرکہا کہ بی ایم سی میں غیر حاضر 7اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم کسی بھی فرد کواس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ عوامی خدمات سے انحراف کرتے ہوئے گھربیٹھے تنخواہیں لیتے رہیں ،اس سے قبل بھی سول ہسپتال کوئٹہ میں غیر حاضر رہنے والے اہلکاروں کو معطل کردیا گیا تھا اور انہوں نے یہ بات واضح کرتے ہوئے کہا کہ صوب بھر میں محکمہ صحت سے وابستہ کسی بھی ایسے اہلکار کے ساتھ نرمی نہیں برتی جائے گی جو اپنی ذمہ داری بخوبی سرانجام دینے سے قاصر ہوں،انہوں نے کہا کہ صرف اہلکاروں کی معطلی سے یہ سلسلہ نہیں رکے گی بلکہ اس سلسلے میں مزید سخت اقدمات اٹھائی جائیں گی۔انہوں نے ہدایت دی کہ بی ایم سی ہسپتال کی سیکورٹی کو مزید سخت بنایا جائے ، انہوں نے ہسپتال کے کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایم ایس ، بی ایم سی ہسپتال کوبھی ہدایات جاری کیں
11:48 AM
|
No comments
No comments
6:33 AM
|
No comments
No comments
National party vash news pe B N P Awamy ke rehnoma Asad Ullah ke interview ko gair seasi aur gair ekhlaki qaraar deta ha aur un ka shadeed mozamat karta ha. oska N P pe lgae gae sare elzamaat ko jhota qarar dete hue mostarad krta ha. N P ne hamesha balochistan ke logo ki haq k leye jahd o jhod ki ha.B N P ke omaidwaar ki taraf se bar bar ye biyan dena ke panjgoor me poling station band hone ke bavajood N P ke candidates kamyab hue ow shayad es bat se laelm ha ka os ne bi pb 43 se 2300 voots lea han agar poling stations band te to ye sare voots shetan tapa lage k chala gaya?. vash news ke inter view me oska ye kehna ta ke NP walo ne kaha ha k hame fareshto aur ALLAH ne kamyab kiya ha ye bat sach ha hame ALLAH pe yakeen ha es leye osne hame kamyabi se nawaza tome Allah pe yakeen nae ta es leye tome ek ebratnaak shekest ka samna karna pada. panjgoor ke har ek shehri ko pata ha ke tomne ek ek i d card 5000 me harida ha. sab ko pata ha k H Attaullah ko ko dhndli ke zarea tomne kese haraya. leken sab H Attaullah nae han. interview me oska kehna ta ke jab se NP ke omaidwaar kayaab hue han balochistan me lasho ka girna shoro hoa ha ow ye bool gaya ha k os ke dore eqtedar me ketne log shaheed kardeye gae. osne apne dore eqtedaar me sab polititions ke coruption ka record tod diya. 1 minister ka mahana tankhoa 50000 hta ha aur 5 saalo me ye 3000000 hote han leken oske paas 5 luxes gadiya han jo 50000000 ke han. 1 bangla banaya ha jo 30000000 ha . es se coruption ka andaza chalta ha.
1:41 AM
|
No comments
No comments
Haji Mohammad Islam and Mir Rahmath Baloch ke anthak koshishun or jaddujohd sy QESCO ny 3 koror ke lagath sy panjgur Grade station mi 20/26 KVA Transfarmer thansib karny ka kam shoru hoa hy . Js ke waja sy jald panjgur mi bijli ke bohran khatham hojaige inshalla.
6:12 AM
|
No comments
No comments
6:00 AM
|
No comments
No comments
Quetta News: Jan mohamad bulaidi ki news confrance, Panjgur ke Halqe pb 42 aur 43 ke notifcation hogae hen jin ke mutabiq meer rahmat aur haji islam kamyab hogae hen, log propegendon pe barosa na kare.
Sectry genral n.p jan mohamad bulaidi.
Sectry genral n.p jan mohamad bulaidi.
6:01 AM
|
No comments
No comments
Every application for the recounting and checking of votes by asad has been rejected and the final result has been announced no more objections...
Congratz To Mir Rahmat Baloch & Haji Mohammad Islam..
Congratz To Mir Rahmat Baloch & Haji Mohammad Islam..
























