:::: MENU ::::
  صوبائی وزیر صحت میر رحمت بلوچ نے کہا ہے کہ ایڈز ایک خطرناک اور مہلک بیماری ہے 2دسمبر کو عالمی سطح

 پر یوم ایڈز منانے کا مقصد اس مہلک مرض کی روک تھام کیلئے کام کرنے کا عہد اور عوامی آگاہی ہے بلوچستان میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن سے حفاظی تدابیر اپنا کر بچاجاسکتا ہے صوبے میں اب تک ایڈز کے 288کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 188کا تعلق کوئٹہ سے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایڈز کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب محکمہ صحت لاوارث اور بے جان نہیں ہر شخص کا احتساب کریں گے کیونکہ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور بلا رنگ ونسل عوام کی خدمت کی راہ پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہیلتھ ایجوکیشن کی کمی ہے جس کی وجہ سے لوگ بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں دوسری جانب بدقسمتی سے یہاں پر ماضی میں شعبہ صحت میں عملی طور پر کوئی کام نہیں کیاگیا۔ عالمی اداروں کے تعاون سے چلنے والے اکثر پراجیکٹس اور پروگرام منیجر کوئٹہ سے زیادہ اسلام آباد میں رہتے ہیں جس سے وہ بلوچستان حکومت سے زیادہ اسلام آباد کے ملازم معلوم ہوتے ہیں جب مجھے ایک بریفنگ میں اس بات سے آگاہ کیاگیا تو مجھے دکھ پہنچا کہ صوبے کے غریب عوام کس طرح کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں جبکہ یہ لوگوں کی مشکلات سے بے خبر زندگی گذار رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ آج اس فورم پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ تین ماہ تک کوئی بھی پروگرام منیجر صوبے سے اسلام آبادنہیں جائے گا وہ ان آفیسران کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے کہ وہ اسلام آباد کی بجائے صوبے کے تمام اضلاع میں جاکر اپنے اپنے پراجیکٹس کے حوالے سے معلومات لیں اور تحریری طور پر انہیں پراجیکٹ کی کارکردگی سے آگاہ کریں ایسا نہ کرنے والے آفیسرز کیلئے محکمہ صحت میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور ان آفیسروں پراجیکٹس سے فوری طور پر فارغ کردیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی ان کی عالمی ڈونرز سے ملاقاتیں ہوتی ہیں ان آفیسران کی غفلت اور ناقص کارکردگی وجہ سے انہیں شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے صوبے میں صحت سے متعلق منصوبوں کیلئے عالمی ڈونرز نے اپنے وعدوں کے مطابق 100فیصد فنڈز جاری کئے ہیں جبکہ ان منصوبوں پر کام کرنے والوں کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی ہے مگر اب انہوں نے ڈونرز کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ یہ فنڈز مخصوص کاغذی منصوبوں کی نظر نہیں ہوں گے بلکہ جس مقصد کیلئے یہ دےئے گئے ہیں اسی پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ایک موذی مرض ایڈز جس کے مختلف طریقوں سے پھیلنے کا خدشہ موجود رہتا ہے کے 18اسکرننگ سینٹرز بند پڑے ہیں جو کہ ایک انسانیت سوز اقدام ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ یہاں کسی پر تنقید کرنے نہیں بلکہ اپنی سوچ فکر لے کر آئے ہیں لیکن ایسے منصوبوں کو نظر انداز کرنے والوں کی حالت پر رونا آتا ہے انہوں نے کس طرح اس موذی مرض کے حوالے سے اپنے سینٹرز کو بند رکھا ہے۔ ان سینٹرز کو بہت جلد دوبارہ فعال کردیا جائے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی محترمہ یاسمین لہڑی نے کہاکہ اس وقت بلوچستان میں بیماریوں کے پھیلنے کی بڑی وجہ ہیلتھ ایجوکیشن کی کمی ہے اور ایڈز جیسے مہلک مرض اور اس کی روک تھام کے حوالے سے آگاہی کی کمی ہے جس سے دوردراز علاقوں میں رہائش پذیر لوگ متاثر ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت اور ایڈز کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیمیں اپنے اپنے طور پر آگاہی مہم شروع کریں تاکہ عوام کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جاسکے
Categories:

0 comments:

Post a Comment