صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے وفاقی حکومت اور بین الاقوامی رفاہی اداروں سے کہا ہے کہ وہ بلوچستان
میں مہلک امراض کی تدارک کیلئے صوبے میں صحت کے شعبے میں صوبائی حکومت کی مدد کریں تاکہ قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچائی جاسکیں اور مہلک امراض پر کسی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوسکیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر مملکت برائے صحت سارہ افضل تارڑ سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پریو ایس ایڈ کے کنٹری ڈائریکٹر اور سینٹر حسیب خان بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل زیادہ جبکہ وسائل محدود ہیں جس کی وجہ سے صوبائی حکومت مہلک بیماریوں پرتنہا قابو نہیں پاسکتی انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گذشتہ 8سالوں کے دوران جس طرح محکمہ صحت کو مسائل سے دوچار کیاگیا اس نے ہماری مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ خصوصاً عالمی فلاحی اداروں کے جاری منصوبوں میں اس وقت کی حکومت نے میرٹ کی بجائے اپنے مفادات کو مد نظر رکھا ان اداروں نے صوبے میں گڈ گورننس نہ ہونے کی وجہ سے بعض اہم منصوبوں کو نظر انداز کرنا شروع کردیا جس کا نقصان صوبے کے عوام کو ہوا انہوں نے کہا کہ اس سلسلے وہ خود بھی تمام بین الاقوامی رفاہی اداروں سے رابطہ کررہے ہیں جس کا مقصد ان کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی محکمہ صحت میں اصلاحات شروع کردی ہیں جس سے بین الاقوامی اداروں کااعتماد بحال ہوگا اور خصوصاً صوبے کے عوام کو ان اقدامات سے استفادہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہر ہسپتال میں ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے صوبے میں مختلف علاقوں میں ہیپاٹائٹس سی اور بی کے سینکڑوں کی تعداد میں کیس رپورٹ ہورہے ہیں جس کی بڑی وجہ مہنگی ادویات ہیں صوبائی حکومت اپنے دستیاب وسائل سے یہ ادویات فراہم کررہی ہے جس کیلئے وفاق کی مدد کی بھی ضرورت ہے اس موقع پر وفاقی وزیر صحت سارہ افضل تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کوشش ہے کہ بلوچستان سے محرومیوں کا خاتمہ ہو اور صوبے کو تمام ضروری وسائل فراہم کئے جائیں تاکہ وہ اپنے مسائل خود حل کرسکے انہوں نے کہا کہ ان کا حالیہ دورہ بھی ان ہی کاوشوں کی ایک کڑی ہے جس میں انہوں نے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی ہے اور وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گی۔

0 comments:
Post a Comment